لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا عورت قربانی کے جانور کو ذبح کر سکتی ہے یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا عورت قربانی کے جانور کو ذبح کر سکتی ہے یا نہیں ؟

السلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ اور سبھی حضرات خيریت سے ہیں علمائے کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کیا عورت قربانی کے جانور کو ذبح کر سکتی ہے یا نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں محمد عرفان خان خادم مدرسہ گلشن رضا مدنی نگر شیندورنی تعلقہ جامنیر ضلع جلگاؤں مہاراشٹر انڈیا وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں قربانی کر سکتی ہے عورت اگر قواعد وشرائط ذبح سے واقف ہے اور مطابق شرع ذبح کرسکتی ہے تو بلا ریب حلال ہے۔جیساکہ حدیث پاک میں ہے :عن نافع، عن ابن كعب بن مالك، عن أبيه: أن امرأة ذبحت شاة بحجر، «فسئل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فأمر بأكلها»(صحيح البخاري 7/ 92) در مختار میں ہے:وشرط کون الذابح مسلما ولو امرأۃ أو صبیا یعقل التسمیة والذبح مسلمان اگرچہ عورت یا بچہ ہو شرط یہ ہے کہ بسم الله اورذبح کو جانتا ہو(در مختار کتاب الذبائح ص ٦٤٠ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ) واللہ تعالیٰ و رسولہ الاعلیٰ اعلم بالصواب کتبہ :العبد المذنب الفقیر عبدالعزیز خوشتر رضوی علیمی خادم افتا رضوی دارالافتاء جھاڑیسرپور، جالیسر، بالاسور، اڈیشا 04/ذی الحجہ 1443ہ مطابق 03/جولائی 2022ء بروز دوشنبہ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات