دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #601
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
میت کی پیشانی پر بسم اللہ یا کلمہ لکھنا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,193
سوال (Question):
میت کی پیشانی پر بسم اللہ یا کلمہ لکھنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
میت کی پیشانی پر بسم اللہ یا کلمہ لکھنا کیسا ہے ؟
حضرت ہمارے گاؤں ایک صاحب کا انتقال ہوا میت کو غسل دینے کے بعد مین دیکھا کہ ایک مولانا صاحب میت کے ماتھے اور سینے پر اپنے انگلی سے کچھ لکھ رہے تھے کئ میت کے غسل و کفن میں شامل ہوا پر ایسا کسی کو نہ دیکھا حضرت رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ محمد بلال رضوی لکھیم پور کھیری یو،پیالجواب
میت کو غسل دینے کے بعد شہادت کی انگلی سے سیاہی کے بغیر میت کی پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سینہ پر کلمہ طیبہ لکھاجاتا ہے اوریہ درست ہے ۔ جیساکہ ردالمحتار علی الدرالمختار میں علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : نعم نقل بعض المحشین عن فوائد الشرجی أن مما یکتب علی جبہۃ المیت بغیر مداد بالأصبع المسبحۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم وعلی الصدر لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ ، وذلک بعد الغسل قبل التکفین ا ہ۔ واللہ أعلم .(ردالمحتار ، کتاب الصلوٰۃ ، باب صلوٰۃ الجنازۃ) لہذا آپ نے جو طریقہ دیکھا ہے کہ میت کو غسل کے بعد پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سینہ پر کلمہ طیبہ لکھا گیا ہے وہ درست ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – از۔۔ محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat