بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-601 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
میت کی پیشانی پر بسم اللہ یا کلمہ لکھنا کیسا ہے ؟
حضرت ہمارے گاؤں ایک صاحب کا انتقال ہوا میت کو غسل دینے کے بعد مین دیکھا کہ ایک مولانا صاحب میت کے ماتھے اور سینے پر اپنے انگلی سے کچھ لکھ رہے تھے کئ میت کے غسل و کفن میں شامل ہوا پر ایسا کسی کو نہ دیکھا حضرت رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ محمد بلال رضوی لکھیم پور کھیری یو،پیالجواب
میت کو غسل دینے کے بعد شہادت کی انگلی سے سیاہی کے بغیر میت کی پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سینہ پر کلمہ طیبہ لکھاجاتا ہے اوریہ درست ہے ۔ جیساکہ ردالمحتار علی الدرالمختار میں علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : نعم نقل بعض المحشین عن فوائد الشرجی أن مما یکتب علی جبہۃ المیت بغیر مداد بالأصبع المسبحۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم وعلی الصدر لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ ، وذلک بعد الغسل قبل التکفین ا ہ۔ واللہ أعلم .(ردالمحتار ، کتاب الصلوٰۃ ، باب صلوٰۃ الجنازۃ) لہذا آپ نے جو طریقہ دیکھا ہے کہ میت کو غسل کے بعد پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سینہ پر کلمہ طیبہ لکھا گیا ہے وہ درست ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – از۔۔ محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ