بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-580 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وتر میں اگر کوئی شخص دعا قنوت پڑھنا بھول جاۓ تو کیا کرے ؟
سوال:حضرت وتر کی نماز جو عشاء میں پڑھی جاتی ہے اگر کوئی شخص دعا قنوت پڑھنا بھول جاۓ تو کیا کرے ؟الجواب
وترکی آخری رکعت میں دعاء قنوت پڑھے بغیر رکوع کرلے تو چونکہ قنوت پڑھنے کا محل فوت ہو چکا ہے اس لئے قنوت پڑھنے کے لئے دوبارہ وہ قیام کی طرف نہ لوٹے اور اپنی نماز بدستور جاری رکھے، البتہ سجدہ سہوکرلے ۔ در مختارج ١،کتاب الصلوۃ،باب الوتروالنوافل ص ٤٩٥،میں ہے: (ولونسیھ) ای القنوت (ثم تذکرہ فی الرکوع لایقنت ) فیھ لفوات محلھ (ولایعود الی القیام ) فی الاصح لان فیھ رفض الفرض للواجب (فان عاد الیھ وقنت ولم یعد الرکوع لم تفسد صلوتھ) لکون رکوعھ بعد قراء ۃ تامۃ(وسجدللسھو)۔ واللہ اعلم بالصواب – از۔۔ محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور و صدر المدرسین دارالعلوم مرکز السنہ خلیل العلوم لکھنؤ یو پی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ