لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

سارے نبی اور ولی اللہ کے محتاج ہیں کہنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سارے نبی اور ولی اللہ کے محتاج ہیں کہنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ بکر کہتا ہے کہ سارے نبی اور ولی اللہ کے محتاج ہیں اور زید کہتا ہے کہ سب نبی اللہ تعالی کے محتاج ہیں لیکن حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اللہ کے محتاج نہیں، خدائے تعالی نے انہیں سب کچھ عطا کردیا اور مختار کل بنا دیا تو ان میںسے کس کا قول صحیح ہے ؟ الجواب یہ قول کہ سارے نبی اور ولی اللہ کے محتاج ہیں صحیح ہے۔ قران مجید میں ہے(ـ واللہ الغنی وانتم الفقرا)ء سورہ محمد پارہ نمبر 26 ۔اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ،اس کی تفسیر میں علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمۃ والرضوان بھی یہی تحریر فرماتے ہیں۔ اور زید کا یہ قول کہ خدائے تعالی نے انہیں سب کچھ عطا کر دیا اور مختار کل بنا دیا یقینا حق ہے اور ہر مومن کا اس پر ایمان ہے۔ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اللہ عزوجل کے نائب مطلق ہیں تمام جہاں حضور کے ماتحت تصرف کر دیا گیا جو چاہیں کریں جسے چاہے واپس لیں، تمام جہاں میں ان کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں، جہاں ان کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں بہار شریعت حصہ اول صفحہ ۲۲۔ ان اختیارات کہ بنا پر زید کا یہ کہنا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اللہ تعالی کے محتاج نہیں کفر ہے۔ اس پر توبہ تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہے جیسا کہ آیت مذکورہ اس پر دلالت کرتی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد نعیم برکاتی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات