لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا خنثیٰ امامت کر سکتا ہے ؟ از محمد اشفاق عالم امجدی علیمی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا خنثیٰ امامت کر سکتا ہے ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ خنثیٰ مردے کی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ پڑھا سکتا ہے جبکہ بستی دیگر علماء وحفاظ موجود ہیں لھذا مذکورہ چیزوں میں سے کیا کیا نہیں کرسکتا بالتفصیل مدلل جواب عنایت فرمائیں؟ سائل : ابراہیم (آندھراپردیش) وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک العزیز الوھاب

بالغ مرد کو کسی بھی نماز میں خواہ نماز جنازہ ہو یا تراویح و نوافل خنثیٰ کی اقتداء جائز نہیں یہاں تک کہ خنثیٰ کو خنثیٰ کی اقتداء بھی جائز نہیں ہاں البتہ خنثیٰ عورت کا امام ہوسکتا ہے۔ جیساکہ فتاوی ھندیہ میں ہے وامامة الخنثیٰ المشکل للنساء جائزۃ ان تقدمھن و للرجال ولخنثیٰ مثله لا یجوز ” اھ (ج1ص:85 الفصل الثالث فی بیان من یصلح اماما لغیرہ بیروت) اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ "عورت، خنثیٰ، نابالغ لڑکے کی اقتدا مرد بالغ کسی نماز میں نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ نماز جنازہ و تراویح و نوافل میں اور مرد بالغ ان سب کا امام ہو سکتا ہے، مگر عورت بھی اس کی مقتدی ہو تو امامتِ عورت کی نیت کرے سوا جمعہ و عیدین کے کہ ان میں اگرچہ امام نے امامتِ عورت کی نیت نہ کی، اقتدا کرسکتی ہے اور عورت و خنثیٰ عورت کے امام ہوسکتے ہیں ، مگر عورت کو مطلقاً امام ہونا مکروہ تحریمی ہے، فرائض ہوں یا نوافل پھر بھی اگر عورت عورتوں کی اِمامت کرے، تو امام آگے نہ ہو بلکہ بیچ میں کھڑی ہو اور آگے ہوگی جب بھی نماز فاسد نہ ہوگی اور خنثیٰ کے لیے یہ شرط ہے کہ صف سے آگے ہو ورنہ نما زہوگی ہی نہیں ، خنثیٰ خنثیٰ کا بھی امام نہیں ہوسکتا۔ (بہار شریعت جلد اوّل صفحہ 573) کتبہ:محمد اشفاق عالم امجدی علیمی بچباری آبادپور کٹیہار الھند

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات