لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

دعاؤں میں وسیلہ مانگنے کا شرعی طریقہ

کیا اللہ سے دعا کرتے وقت انبیاء یا اولیاء کا وسیلہ دیا جا سکتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دعا میں وسیلہ پکڑنے کے تین طریقے بالکل جائز اور ثابت ہیں: 1) اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ کا وسیلہ لینا۔ 2) اپنے کسی نیک عمل (جیسے نماز، صدقہ) کا وسیلہ دے کر دعا کرنا۔ 3) انبیاء کرام علیہم السلام اور نیک صالحین (زندہ یا فوت شدہ) کی ذات اور ان کی برکت کا وسیلہ دینا (جیسے ‘یا اللہ اپنے نبی ﷺ کے صدقے میرا کام کر دے’)۔ یہ جمہور اہلسنت کے نزدیک بالکل جائز ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات