دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #523
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
بچوں کے درمیان تحائف دینے میں برابری
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,461
سوال (Question):
کیا والدین زندگی میں اپنی جائیداد یا تحفہ کسی ایک بچے کو زیادہ دے سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
والدین کے لیے اپنی زندگی میں بچوں کو تحفہ، پیسے یا جائیداد دینے میں ‘عدل و برابری’ کرنا واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو’۔ زندگی میں دیے گئے تحفے میں لڑکے اور لڑکی کا حصہ برابر ہوتا ہے (وراثت کی طرح لڑکے کا دگنا نہیں ہوتا)۔ البتہ کسی بچے کے بیمار یا معذور ہونے کی وجہ سے ضرورت کے تحت زیادہ دینا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat