دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #522
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ولی (والد) کی اجازت کے بغیر نکاح (Court Marriage)
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,355
سوال (Question):
کیا لڑکی کا اپنے والدین کی اجازت اور مرضی کے بغیر کورٹ میرج کرنا شرعاً درست ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
فقہ حنفی کے مطابق عاقلہ اور بالغہ لڑکی اگر اپنے ہم کفو (برابر کے اسٹیٹس والے) لڑکے سے والدین کی اجازت کے بغیر دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لے، تو شرعاً نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ لیکن خاندان اور ولی کی رضا کے بغیر ایسا کرنا سخت ناپسندیدہ، بے حیائی، اور معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے جس کی اسلام میں حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ احادیث میں ولی کی اجازت کی بہت تاکید ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat