فقہ حنفی کے مطابق عاقلہ اور بالغہ لڑکی اگر اپنے ہم کفو (برابر کے اسٹیٹس والے) لڑکے سے والدین کی اجازت کے بغیر دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لے، تو شرعاً نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ لیکن خاندان اور ولی کی رضا کے بغیر ایسا کرنا سخت ناپسندیدہ، بے حیائی، اور معاشرتی بگاڑ کا سبب ہے جس کی اسلام میں حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ احادیث میں ولی کی اجازت کی بہت تاکید ہے۔ واللہ اعلم۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-522 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اظہر علیمی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-522
تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن
شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں
اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: