لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

ٹیلیفون یا ویڈیو کال پر نکاح کا شرعی حکم

लड़का विदेश में है، کیا ٹیلیفون یا ویڈیو کال کے ذریعے براہ راست نکاح ہو سکتا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نکاح درست ہونے کے لیے ایجاب و قبول (مرد و عورت) اور دو گواہوں کا ایک ہی مجلس میں موجود ہونا شرط ہے۔ فون یا ویڈیو کال پر چونکہ مجلس ایک نہیں ہوتی، اس لیے براہ راست نکاح درست نہیں۔ اس کا جائز طریقہ یہ ہے کہ لڑکا فون پر لڑکی کے ملک میں کسی (مثلاً اپنے والد یا دوست) کو اپنا وکیل بنائے، پھر وہ وکیل گواہوں کے سامنے لڑکے کی طرف سے ایجاب و قبول کرے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-497 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

نکاح کے مسائل