دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #468
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نابالغ بچے کی جائیداد یا پیسوں پر زکوٰۃ
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,322
سوال (Question):
میرے نابالغ بیٹے کے نام پر 15 لاکھ روپے بینک میں ہیں، کیا ان پر زکوٰۃ ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
فقہ حنفی کے مطابق زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے ‘عاقل اور بالغ’ ہونا شرط ہے۔ اس لیے نابالغ بچے کے نام پر کتنی ہی جائیداد، سونا یا کیش موجود ہو، اس پر شرعاً زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ جب بچہ بالغ ہو گا، اس وقت سے اس کی رقم پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہو گی۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat