دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #41
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund) پر زکوٰۃ کا حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,092
سوال (Question):
ملازمین کی تنخواہ سے جو پراویڈنٹ فنڈ کٹتا ہے، کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پراویڈنٹ فنڈ کے دو حصے ہوتے ہیں: ایک ملازم کی کٹوتی، اور دوسرا کمپنی کا حصہ۔ جب تک یہ فنڈ ملازم کو مل نہ جائے (ریٹائرمنٹ پر یا استعفیٰ پر)، اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، کیونکہ اس پر ملازم کا مکمل قبضہ (تامِ ملکیت) نہیں ہوتا۔ جب یہ رقم مل جائے گی تو اس کے بعد سال گزرنے پر زکوٰۃ فرض ہوگی، پچھلے سالوں کی زکوٰۃ لازم نہیں۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat