دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #406
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جھوٹ بولنے کی اجازت کن مواقع پر شریعت میں ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,803
سوال (Question):
کیا اسلام میں کسی بھی حال میں جھوٹ بولنے کی گنجائش ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے۔ البتہ حدیث کی روشنی میں صرف 3 مواقع پر حکمت کے تحت جھوٹ بولنے (یعنی خلافِ واقعہ بات کہنے) کی گنجائش ہے: 1) جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے، 2) دو ناراض مسلمانوں میں صلح کرانے کے لیے، 3) میاں بیوی کا ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے (ایسی بات جس سے کسی کا حق نہ مارا جائے)۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat