دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #403
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund) پر ملنے والا سود یا اضافی رقم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
10,451
سوال (Question):
ریٹائرمنٹ پر پراویڈنٹ فنڈ میں جو اضافی رقم (Interest) لگ کر آتی ہے، کیا وہ حلال ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اگر پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی ملازم کی تنخواہ سے جبری (Compulsory) ہوتی ہے اور اس کے اختیار میں نہیں، تو ریٹائرمنٹ پر ملنے والی ساری اضافی رقم انعام کے حکم میں ہے اور حلال ہے۔ لیکن اگر کٹوتی اختیاری (Voluntary) طور پر کروائی گئی ہو تو اصل تنخواہ سے زائد ملنے والی رقم سود ہو گی اور حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat