بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-403 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی ملازم کی تنخواہ سے جبری (Compulsory) ہوتی ہے اور اس کے اختیار میں نہیں، تو ریٹائرمنٹ پر ملنے والی ساری اضافی رقم انعام کے حکم میں ہے اور حلال ہے۔ لیکن اگر کٹوتی اختیاری (Voluntary) طور پر کروائی گئی ہو تو اصل تنخواہ سے زائد ملنے والی رقم سود ہو گی اور حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ