بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-397 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قربانی کرنے والے کو اپنی قربانی کی کھال بیچ کر رقم اپنے استعمال میں لانا حرام ہے۔ اگر اس نے خود بیچی ہے تو وہ رقم مستحقِ زکوٰۃ غریب کو صدقہ کرنا واجب ہے۔ مسجد کی تعمیر یا امام کی تنخواہ میں زکوٰۃ اور کھال کی رقم دینا جائز نہیں۔ البتہ مدرسے کے غریب طلبہ کو دے سکتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ