بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-394 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
چونکہ اکاؤنٹ کھلواتے وقت کھاتہ دار کو معلوم ہوتا ہے اور اس کی رضامندی (یا خاموش اجازت) شامل ہوتی ہے کہ یکم رمضان کو کٹوتی ہو گی، اس لیے نیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا بینک جو رقم کاٹ کر زکوٰۃ فنڈ میں جمع کرواتا ہے، اس حد تک زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔ بقایا مال کی زکوٰۃ خود حساب کر کے دینا ہو گی۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ