بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-393 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پرائز بانڈز چونکہ نقد رقم (Cash) کا حکم رکھتے ہیں، اس لیے ان کی اصل مالیت (Face value) پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہے۔ البتہ پرائز بانڈز پر ملنے والا انعام سود اور جوا ہے جو کہ حرام ہے۔ انعام کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں، اسے بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں کو دینا واجب ہے۔ زکوٰۃ صرف اصل 5 لاکھ پر ہو گی۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ