بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-388 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ناپاکی (حیض، نفاس یا جنابت) کی حالت میں ناخن کاٹنا، زیرِ ناف بال صاف کرنا یا بغل کے بال کاٹنا مکروہِ تنزیہی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ پاک ہونے کے بعد یہ کام کیے جائیں۔ البتہ اگر بال اتنے بڑے ہو گئے ہوں کہ 40 دن گزرنے کا خدشہ ہو تو پھر ناپاکی میں بھی کاٹ لینا چاہیے تاکہ گناہگار نہ ہو۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ