بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-383 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
روایتی انشورنس کی بنیاد سود، جوا (قمار) اور غرر (غیر یقینی) پر ہے، اس لیے شرعاً حرام ہے۔ جبکہ ‘تکافل’ کو علماء کی نگرانی میں چندے (تبرع) اور وقف کے اصولوں پر بنایا گیا ہے، جس میں پریمیم امدادی فنڈ میں جاتا ہے۔ اگر کوئی کمپنی واقعی شریعہ بورڈ کی نگرانی میں تکافل دے رہی ہو تو وہ جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ