صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #358 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

مرنے کے بعد آنکھوں کا عطیہ (Eye Donation)

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 9,902

سوال (Question):

کیا مرنے سے پہلے وصیت کی جا سکتی ہے کہ میری آنکھیں کسی نابینا کو عطیہ کر دی جائیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پاک و ہند کے جمہور مفتیانِ کرام (احناف) کے نزدیک انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ہے، اس لیے جسمانی اعضاء (جیسے آنکھیں یا گردے) کا عطیہ کرنا انسانیت کی توہین اور ناجائز ہے، اور ایسی وصیت پر عمل کرنا باطل ہے۔ عرب علماء اسے مخصوص حالات میں جائز کہتے ہیں، مگر احتیاط ناجائز ہونے میں ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat