بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-343 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سید (بنو ہاشم) کو زکوٰۃ، صدقہ فطر اور دیگر صدقاتِ واجبہ دینا یا ان کا لینا شرعاً حرام ہے۔ زکوٰۃ لوگوں کے مال کا میل ہے جو آلِ رسول ﷺ کے لیے جائز نہیں۔ غریب سید کی مدد ہدیہ، تحفہ یا نفلی صدقات (عطیات) سے کرنا ہر مسلمان کا فرض اور باعثِ اجر ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ