لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

بچوں کی تربیت میں سختی اور مار پیٹ کی حد

بچوں کو شرارت پر یا نماز نہ پڑھنے پر مارنے کی شرعی حد کیا ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شریعت نے 10 سال کی عمر پر نماز چھوڑنے پر ہلکی مار کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ بھی تادیب کے لیے ہلکی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن چہرے پر مارنا، غصے میں بے تحاشہ پیٹنا یا ایسی مار جس سے نشان پڑ جائے، شرعاً حرام اور ظلم ہے۔ نرمی سے سمجھانا بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات