لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

عدت کے دوران عورت کا گھر سے نکلنا

بیوہ یا طلاق یافتہ عورت عدت کے دوران کس ضرورت کے تحت گھر سے نکل سکتی ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

طلاق والی عورت (جس کا نفقہ شوہر پر ہو) کا عدت میں گھر سے نکلنا جائز نہیں۔ بیوہ کا نفقہ چونکہ ختم ہو جاتا ہے، اس لیے اگر اس کے پاس اخراجات نہ ہوں تو وہ دن کے وقت کمانے کے لیے نکل سکتی ہے لیکن رات گھر پر ہی گزارے گی۔ بلا ضرورت بازار یا تقریبات میں جانا حرام ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات