لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

کرائے کے مکان یا دکان پر زکوٰۃ کا حساب

اگر میں نے مکان یا دکان کرائے پر دی ہوئی ہے تو زکوٰۃ مکان کی مالیت پر ہو گی یا کرائے پر؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جو پراپرٹی (مکان، دکان، فلیٹ) کرائے پر دینے کے لیے خریدی گئی ہو، اس کی اصل مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ البتہ اس سے آنے والا کرایہ جب وصول ہو جائے اور دیگر مال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچے تو اس کرائے کی رقم پر زکوٰۃ فرض ہو گی۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات