لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
25 اکتوبر 2026

شادی بیاہ میں ناچ گانا اور ڈی جے بجانا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علماء دین مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مسمی خادم حسین والد عالم دین ساکن دودا سن (نیلی ڈاب) اور
محمد ریاض والد خادم حسین
امتیاز احمد والد خادم حسین
اشفاق احمد والد خادم حسین ساکنہ دوداسن والوں نے گزشتہ ہفتے اپنے گھر میں امتیاز احمد کی شادی میں ڈے۔ جے۔ بجائے۔ رقص و سرود کی محفلیں سجاییں۔ جب کہ مقامی امام نے بذریعہ فون منع کیا پھر بھی بند نہیں کیا اور پھر رجوع کرنے سے انکار کر دیا قران و حدیث کی روشنی میں فتویٰ صادر فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شادی بیاہ میں ناچ گانا اور ڈی جے بجانا کیسا ہے ؟

شادی بیاہ خواہ کسی بھی موقع پر ڈی جے بجانا، رقص وسرود کی محفلیں سجانا لھو ولعب ہے جو کہ ناجائز وحرام ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے: "وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ”( پارہ:۲۱،سورہ لقمان:آیت:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:”اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے”.
لفظ "لھو”کے متعلق حضور صدر الافاضل فخر الاماثل علامہ نعیم الملة والدین قدس سرہ العزیر تحریر فرماتے ہیں”لہو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے کہانیاں افسانے اسی میں داخل ہیں”(تفسیر خزائن العرفان مع کنز الایمان ص ۷۴۰)
حدیث شریف میں ہے:”إن اللہ بعثنی رحمۃً للعالمین وھدی للعالمین، وأمرنی ربی بمحق المعازف والمزامیر والأوثان والصلب وأمر الجاھلیة” اللہ تعالی نے مجھے جہانوں کے لیے رحمت اور جہانوں کے لیے ہدایت بھیجا اور مجھے میرے عزت وجلال والے رب نے حکم دیا باجوں،بانسری اور بتوں اور صلیبوں اور جاہلیت کی چیزیں مٹانے کا۔(مشکاۃ المصابیح،ص ۳۱۸/کتاب الحدود/باب بیان الخمر ووعید شاربھا/مجلس البرکات، الجامعۃ الاشرفیۃ مبارکفور أعظم جرہ)
ہدایہ میں ہے:”ودلت المسألة علی أن الملاھی کلھا حرام حتی التغنی بضرب القضیب”اور یہ مسئلہ اس بات کی ترجمانی کرنے والا ہے کہ ہر طرح کا لہو ولعب حرام ہے حتی کہ بانسری بجاکر گانا بھی حرام ہے۔(ج ۴ ص ۴۵۶/کتاب الکراهية/ مكتبہ رحمانیہ/اردو بازار،لاہور)
حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "ڈھول بجانا،عورتوں کا گانا،ناچ،باجا،یہ سب حرام ہیں”(فتاوی امجدیہ ج ۴ ص۷۵/ناشر:دار العلوم امجدیہ،کراچی) صورت مستفسرہ میں جن لوگوں کے نام ذکر کیے گئے ہیں کہ انہوں نے شادی کے موقع پر ڈی جے کا استعمال کیا اور رقص وسرود کی محفلیں سجائیں، علاقہ کے امام صاحب نے ان لوگوں کو ان بیہودہ کاموں سے منع بھی کیا پھر بھی باز نہیں آئے اور توبہ و استغفار کرنے سے بھی انکار کردیے، یہ سب ظالم وجفاکار، سخت فساق وفجار، گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں ، ان پر لازم ہے کہ اپنی بری حرکتوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے علانیہ طور پر الله رب العزت کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں اور جلد قبولیت توبہ کی امید پر اپنے مال میں سے کچھ صدقہ وخیرات بھی کریں، آئندہ ایسی گھناؤنی حرکتوں سے باز آئیں،ورنہ مسلمان ان سے سماجی بائیکاٹ کریں۔والله تعالیٰ أعلم بالصواب

۵/رجب المرجب ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۶/دسمبر ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح
کمال احمد علیمیؔ نظامی استاذ ومفتی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3119 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

وعید وگناہ