جھوٹی تہمت لگانے کا حکم کیا ہے ؟
کسی مسلمان پر زناکاری کی تہمت لگانا حرام قطعی ہے جس کی سزا اسی کوڑے مارنا مقرر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔”والَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًاۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(سورہ نور،آیت:٤)اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْاۚ-فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(سورہ نور،آیت:٥)
ترجمۂ کنزالایمان :
"اور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی کوئی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں ۔ مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور سنور جائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
حدیث شریف میں ہے۔”حضرت معاذ بن انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو کسی مسلمان کو ذلیل کرنے کی غرض سے ا س پر الزام عائد کرے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کے پُل پر اس وقت تک روکے گا جب تک وہ اپنی کہی ہوئی بات (کے گناہ) سے (اس شخص کو راضی کر کے یا اپنے گناہ کی مقدار عذاب پاکر) نہ نکل جائے۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب من ردّ عن مسلم غیبة، ۴ / ۳۵۴، رقم الحدیث: ۴۸۸۳)
دوسری حدیث پاک ہے۔”حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے کسی شخص کے بارے میں کوئی ایسی بات ذکر کی جو اس میں نہیں تا کہ اس کے ذریعے اس کو عیب زدہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں قید کر دے گا یہاں تک کہ وہ اس کے بارے میں اپنی کہی ہوئی بات ثابت کرے۔ (اس سے مراد یہ ہے کہ طویل عرصے تک وہ عذاب میں مبتلا رہے گا)۔( المعجم الاوسط، باب المیم، من اسمه: مقدام، ۶ / ۳۲۷،رقم الحدیث: ۸۹۳۶)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:”کسی مسلمان کو تہمت لگانی حرامِ قطعی ہے خصوصاً مَعَاذَ ﷲ اگرتہمتِ زنا ہو۔ (فتاویٰ رضویہ،ج۲۴ص ۳۸۶)صورت مسؤلہ میں سرفراز احمد نے محمد مشتاق،عبد الرشید،محمد فریدکی بیویوں پر جھوٹی تہمت لگائی ہے اس قول قبیح کی وجہ سے یہ(سرفراز احمد)ظالم وجفاکار،سخت فاسق وفاجر حرام کبیرہ کا مرتکب مستحق قہر قہار وعذاب نار ہے۔ کسی مسلمان پر زناکاری کی جھوٹی تہمت لگانے والے کی حد شرعاً اسی (٨٠) کوڑےمارنا ہے مگر چوں کہ ہمارے یہاں اسلامی حکومت نہیں اس لیے حد نافذ نہیں کی جاسکتی۔ مگر سرفراز احمد پر لازم ہے کہ جن پر جھوٹی تہمت لگائی ہے ان سے معافی مانگے، الله رب العزت کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ و استغفار کرے،آئندہ ایسی قبیح حرکات سے باز آئے اور جلد قبولیت توبہ کی امید پر اپنے مال میں سے کچھ صدقہ وخیرات بھی کرے۔اگر سرفراز احمد مذکورہ احکام شرعیہ پر عمل پیرا نہیں ہوتا ہے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کا بائیکاٹ کریں نہ تو اس کے ساتھ کھائیں پیئیں اور نہ ہی نشست وبرخاست رکھیں۔واللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔
۲/رجب المرجب ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۳/دسمبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری استاذ ومفتی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی