مسلمانوں کو آپس میں اتفاق واتحاد سے رہنا چاہیے ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ گالی دینا فسق وفجور والا کام ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: “ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ”(سورہ حجرات/آیت نمبر: ۱۰ پارہ :۲۶) ترجمہ:- مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو”(كنز الايمان)
حدیث شریف میں ہے(۱) عن أنس رضی اللہ تعالی عنہ عن النبى صلى اللہ تعالی عليه وسلم قال: يسروا ولا تعسروا، وبشروا ولا تنفروا” لوگوں پر آسانی کرو اور سختی مت کرو،خوشخبری سناؤ ،نفرت مت دلاؤ۔ (صحیح البخاری/ کتاب العلم/باب ماكان النبى صلى الله عليه وسلم يتخولهم بالموعظة والعلم كي لا ينفروا/ رقم الحدیث/۶۹)
حدیث(۲)”سباب المسلم فسوق وقتاله كفر”یعنی مسلمان کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔(صحیح البخاری/ رقم الحدیث: ۴۸/کتاب الایمان/باب خوف المؤمن من أن یحبط عمله وهو لا يشعر/دار ابن کثیر،دمشق،بیروت)
حدیث(۳)”ساب المؤمن کالمشرف علی الھلکة”یعنی مسلمان کو گالی دینے والا اس شخص کی طرح ہے جو عنقریب ہلاکت میں پڑنے والا ہے۔(الجامع الصغیر في أحاديث البشير والنذير للسیوطی/ حرف السین/ص ۲۸۳/رقم الحدیث:۴۶۱۳/دار الكتب العلمية بيروت لبنان)
جب علاقہ کے چند معزز لوگوں نے زید وبکر کا آپسی جھگڑا ختم کروادیا تو پھر زید کو بکر کے خلاف فتویٰ نہیں منگوانا چاہیے تھا، وہ بھی دیوبندی مفتی(جو کہ عقائد باطلہ رکھنے والوں میں سے ہے) سے۔
زید نے آپسی تنازع ختم ہوجانے کے بعد بکر کے خلاف فتویٰ منگواکر یہ جو نازیبا حرکت کی ہے اس پر اس(بکر) سے معافی مانگے نیز الله رب العزت کی بارگاہ میں توبہ صادقہ کرے اور آئندہ برے کاموں سے گریز کرے ورنہ حقوق العباد میں گرفتار ہوکر سخت گنہگار مستحق قہر قہار وعذاب نار ہوگا۔
۵/جمادی الآخرہ ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۷/نومبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری استاذ ومفتی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی