لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
05 اکتوبر 2026

شوہر دو طلاق کا اقرار کرتا ہے اور بیوی تین طلاق کس کی بات مانی جائے گی ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میاں بیوی کے درمیان بذریعہ فون باتوں باتوں میں جھگڑا ہو گیا اسی دوران کافی ناچاقی اور گالی گلوچ کے دوران شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی اب بیوی کے بیانوں کے مطابق تین طلاق کا کہہ رہی ہے شوہر کے بیانوں کے مطابق دو طلاق دی ہیں بیوی کے پاس کوئی گواہ، ریکارڈنگ یا تحریر موجود نہ ہے اور نہ ہی شوہر کے پاس کوئی ثبوت وغیرہ موجود ہے۔
لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ اب یہ دو طلاق مانی جائیں گی یا تین اس میں بیوی کی بات معتبر ہوگی یا شوہر کی اگر شوہر کی بات کا اعتبار کیا جائے گا تو اب شوہر کے پاس کتنی طلاق کا اختیار رہ گیا۔کیا اب یہ میاں بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شوہر دو طلاق کا اقرار کرتا ہے اور بیوی تین طلاق کس کی بات مانی جائے گی ؟

صورت مسؤلہ میں اگر واقعی شوہر نے اپنی بیوی کو بشرطیکہ مدخولہ ہو دو طلاق دی ہیں تو دو واقع ہوئیں،اگر رجعی دی ہیں تو دوران عدت عورت کی رضامندی کے بغیر بھی رجعت کرسکتا ہے اور بعد عدت عورت کی مرضی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتا ہے۔ اگر طلاق بائن دی ہیں تو دوران عدت یا بعد عدت عورت کی رضامندی سے جدید مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتا ہے، حلالہ کی ضرورت نہ ہوگی۔عورت کے پاس تین طلاق کا شرعی ثبوت چونکہ موجود نہیں ہے تو شوہر کا قول معتبر ہو گا اور اب اس کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا۔ اگر حقیقت میں تین طلاق دی ہیں مگر اب غلط بیان کرتے ہوئے دو بتاتا ہے تو اس صورت میں طلاق مغلظہ واقع ہوگئی، بغیر حلالہ کے عورت اس کے لیے حلال نہیں۔

فتاوی فیض الرسول میں ہے: "صورت مستفسرہ میں زید نے اگر واقعی اپنی مدخولہ بیوی کو صرف دو طلاق دی ہے اور طلاق رجعی دی ہے تو عدت کے اندر عورت کی مرضی کے بغیر بھی رجعت کرسکتا ہے اور بعد عدت عورت کی مرضی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتا ہے۔اور اگر طلاق بائن دی ہے تو شوہر عدت کے اندر اور بعد عدت عورت کی مرضی سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے کہ دو طلاق کی صورت میں حلالہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر زید غلط بیانی سے کام لیتا ہے کہ حقیقت میں تین طلاق دی ہے مگر صرف دو طلاق بتاتا ہے تو اس صورت میں طلاق مغلظہ واقع ہوگئی کہ بغیر حلالہ وہ عورت زید کے لیے حلال نہیں قال الله تعالٰی فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-الآیہ۔ اور سوال میں طلاق کے الفاظ چونکہ مذکور نہیں اس لیے دار الافتاء سے طلاق رجعی یا بائن کی تعیین نہیں کی جاسکتی”(فتاوی فیض الرسول، ج ۲ ص ۱۹۲/کتاب الطلاق/دار الاشاعت فیض الرسول براؤں شریف)

۲۷/جمادی الاولی ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۹/نومبر ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری استاذ ومفتی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3095 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

طلاق کے مسائل