شریعت میں اسے ‘ظہار’ کہا جاتا ہے۔ اگر شوہر بیوی کو اپنی کسی محرم عورت (ماں، بہن، بیٹی) کے اعضاء سے تشبیہ دے کر کہے کہ ‘تو مجھ پر میری ماں کی طرح حرام ہے’، تو بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے اور جب تک ‘کفارۂ ظہار’ ادا نہ کرے، بیوی کے پاس جانا حرام ہے۔ اس کا کفارہ مسلسل 60 روزے رکھنا، یا 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی مگر کفارہ لازم ہے۔ واللہ اعلم۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-521 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اظہر علیمی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-521
تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن
شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں
اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: