لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
05 اکتوبر 2026

قبر پر پانی رکھنا کیسا ہے کیا اس سے مردے کو ثواب ملتا ہے ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ
حضرت ایک سوال ہے کیا قبر پر کسی برتن میں پانی رکھنا جائز ہے؟ ثواب کی نیت سے کوئی پرندہ پانی پیے گا اور ثواب میت کو پہنچےگا ۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قبر کے پاس یا کسی بھی جگہ کسی برتن میں پانی اس مقصد سے رکھنا کہ اس سے پرندے وغیرہ پئیں گے تو میت کو اس کا ثواب ملے گا یہ جائز ہے اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
کسی پیاسے کو پانی پلانا باعث اجر و ثواب وذریعہ نجات ہے۔ حدیث شریف میں ہے: "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّهَا فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ» . قِيلَ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: «فِي كُلِّ ذَاتِ كبد رطبَة أجر»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نےکہ اس زانیہ عورت کی مغفرت ہوگئی جو ایک کتے پر گزری کہ ایک کنوئیں کے کنارے ہانپ رہا تھا قریب تھا کہ پیاس اسے قتل کردیتی اس نے اپنا موزہ اتارا اسے اپنے دوپٹے سے باندھا اس طرح پانی نکالا اس وجہ سے بخش دی گئی عرض کیا گیا کیا ہم کو جانوروں میں بھی ثواب ہے فرمایا ہر تر کلیجے والے میں ثواب ہے۔(مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث نمبر:۱۹۰۲)مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: "تر کلیجے والے سے مراد ہر جاندار ہے مگر اس سے موذی جانور مستثنی ہیں لہذا سانپ، بچھو، شیر وغیرہ کو مار دینا ثواب ہے”(مرأۃ المناجیح، ج ۳ ص ۱۰۴/نعیمی کتب خانہ گجرات)
۲۸/جمادی الاولی ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۰/نومبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3093 تصدیق شدہ
ٹیگز: احکام میت
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

احکام میت