ماں باپ کو گالیاں دینا اور ان کو مارنا گناہ کبیرہ،شدید جرم اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
اللہ رب العزت نے اپنی عبادت کا حکم دیا تو ساتھ ہی ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور رحم وکرم کا برتاؤ کرنے کا حکم دیا اور ان کو تکلیف دینے سے منع فرمایا۔
ارشادِ باری تعالی ہے:
"وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا”
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔(سورہ بنی اسرائیل/پارہ ۱۵/آیت نمبر:۲۳)
حدیث شریف میں ہے:(۱)صحیح مسلم وبخاری میں عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: یہ بات کبیرہ گناہوں میں ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔لوگوں نے عرض کی : یارسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟ فرمایا ’’ہاں ، اس کی صورت یہ ہے کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے، وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، اور یہ دوسرے کی ماں کو گالی دیتا ہے، وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے”(بہار شریعت ج ۳ ح ۱۶ ص ۵۵۲/سلوک کرنے کا بیان/مکتبۃ المدینۃ دعوت اسلامی)
اس حدیث پاک کے متعلق حضور صدر الشریعہ رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں:
"صحابۂ کرام جنھوں نے عرب کا زمانہ جاہلیت دیکھا تھا، ان کی سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ اپنے ماں باپ کو کوئی کیوں کر گالی دے گا یعنی یہ بات ان کی سمجھ سے باہر تھی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتایا کہ مراد دوسرے سے گالی دلوانا ہے اور اب وہ زمانہ آیا کہ بعض لوگ خود اپنے ماں باپ کو گالیاں دیتے ہیں اور کچھ لحاظ نہیں کرتے”(حوالہ سابق)
(۲)حضرت ابو بکرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا "ماں باپ کی نافرمانی کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ ہر گناہ میں سے جسے چاہے معاف فرما دے گا جب کہ ماں باپ کی نافرمانی کی سزا انسان کو موت سے پہلے زندگی ہی میں مل جائے گی”( شعب الایمان، الخامس والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی عقوق الوالدین، ۶ / ۱۹۷، الحدیث: ۷۸۹۰)
(۳)حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تین شخص جنت میں نہ جائیں گے (۱) ماں باپ کا نافرمان۔ (۲) دیّوث ۔(۳) مَردوں کی وضع بنانے والی عورت”(معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: ابراہیم، ۲ / ۴۳، الحدیث: ۲۴۴۳)
اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:” پسر مذکور فاسق فاجر مرتکب کبائر عاق ہے اور اسے سخت عذاب وغضب الہی کا استحقاق، باپ کی نافرمانی اللہ جبار وقہار کی نافرمانی ہے اور باپ کی ناراضی اللہ جبار وقہار کی ناراضی ہے، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔ جب تک باپ کو راضی نہ کرے گا اس کا کوئی فرض، کوئی نفل، کوئی عمل نیک اصلا قبول نہ ہوگا، عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلاء نازل ہوگی مرتے وقت معاذاللہ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے”(فتاوی رضویہ مترجم ج ۲۴ ص ۳۸۴ تا ۳۸۵/رضا فاؤنڈیشن لاہور)
لہذا محمد اشرف گارڈ اور اس کی بیوی بچے جنہوں نے اپنے ماں باپ کو مارا اور گندی گالیاں دیں یہ لوگ ماں باپ کو تکلیف دیکر گناہ کیبرہ کے مرتکب مستحق غضب جبار وعذاب نار ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے کئے پر نادم ہوکر ماں باپ سے معافی مانگیں نیز اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں، آئندہ ماں باپ کے ساتھ رحم وکرم کا برتاؤ کریں اور ان کی نافرمانی جیسے بدترین اور ناقابل معافی جرم سے بچنے کا پکا عہد کریں ورنہ مسلمان ان سے سماجی بائیکاٹ کریں۔
۸/جمادی الاولی ۱۴۴۷ھ مطابق ۳۱/اکتوبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
کمال احمد علیمیؔ نظامی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی