لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 01 اکتوبر 2026

اللہ کی بارگاہ میں ثواب کو نذر کرنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع
اس مسئلہ میں کہ زید سُنّی صحیح العقیدہ اس کا نیاز کے وقت یہ کہنا کہ
یا اللہ یہ جو سامنے شیرنی ہے اِس کا ثواب سب سے پہلے تیری بارگاہ میں نذر ہے اسے قبول فرما بعدہ جملہ انبیائے کرام و صحابہ اولیاء

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

زید کا قول ” یا اللہ یہ جو سامنے شیرینی ہے اس کا ثواب سب سے پہلے تیری بارگاہ میں نذر ہے اس کو قبول فرما” غلط ہے کیونکہ اللہ تعالی غنی مطلق ہے، بندے کا اپنے کسی عمل کا ثواب رب العالمین کو نذر کرنا محض جہالت ہے۔ زید کو یہ کہنا چاہیے کہ یا اللہ جو کچھ قرآن پاک سے تلاوت کی گئی اور یہ جو سامنے شیرینی وغیرہ ہے اس کو شرف قبولیت عطا فرما بعدہ اس کا ثواب جملہ انبیاء کرام وصحابہ واولیا وغیرھم کی بارگاہ میں نذر ہے قبول فرما۔

اعلی حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان اسی طرح کے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: "کسی عمل کا ثواب مولی تعالی کی نذر کرنا محض جہالت ہے، وہ غنی مطلق ہے”(فتاوی رضویہ ج ۲۶ ص ۶۰۹/رضا فاؤنڈیشن لاہور)

۹/جمادی الاولی ۱۴۴۷ھ مطابق ۱/نومبر ۲۰۲۵ء

الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد ارشاد رضا علیمی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز: متفرقات

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات