صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2864 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم از علامہ مفتی کمال احمد علیمی نظامی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: مفتی کمال احمد علیمی نظامی تاریخ: ستمبر 17, 2026
0 2

سوال (Question):

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک گاؤں میں امامت کرتا ہے کبھی کبھی ایک مشت سے کم داڑھی بھی رکھتا ہے جھاڑ پھونک دعا تعویذ اس حد تک کرتے ہیں کہ شمشان گھاٹ کی مٹی منگانا گنگا جل منگانا اور نہ جانے کیا کیا رہتاہے اور یہ سب کام مسجد کی چھت پر کرتے ہیں ساتھ انکا ایک گھر خوب آنا جانا ہے رات کو کبھی 12/1 بج جاتاہے جس گھر میں آتے ہیں اسمیں جوان غیر محرم لڑکیاں ہیں مرد کی عدم موجودگی میں بھی گھنٹوں وقت بتاتے ہیں تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے اور ایسے کو امام بنانا کیسا بینوا و توجروا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فاسق کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم از علامہ مفتی کمال احمد علیمی نظامی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک گاؤں میں امامت کرتا ہے کبھی کبھی ایک مشت سے کم داڑھی بھی رکھتا ہے جھاڑ پھونک دعا تعویذ اس حد تک کرتے ہیں کہ شمشان گھاٹ کی مٹی منگانا گنگا جل منگانا اور نہ جانے کیا کیا رہتاہے اور یہ سب کام مسجد کی چھت پر کرتے ہیں ساتھ انکا ایک گھر خوب آنا جانا ہے رات کو کبھی 12/1 بج جاتاہے جس گھر میں آتے ہیں اسمیں جوان غیر محرم لڑکیاں ہیں مرد کی عدم موجودگی میں بھی گھنٹوں وقت بتاتے ہیں تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز درست ہے اور ایسے کو امام بنانا کیسا بینوا و توجروا
المستفتی مُحمد ریاض
الجواب بعون اللہ الھادی الی الحق والصواب
اگر واقعی مذکورہ عیوب زید کے اندر موجود ہیں تو سخت فاسق وگنہ گار ہے ،اس کی اقتدا میں نماز ناقص اور مکروہ تحریمی ہے ، اسے امام بنانا جائز نہیں ہے.
الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
"كره إمامة الفاسق، …. والفسق لغةً: خروج عن الاستقامة، وهو معنی قولهم: خروج الشيء عن الشيء علی وجه الفساد. وشرعاً: خروج عن طاعة اﷲ تعالی بارتكاب كبیرة. قال القهستاني: أي أو إصرار علي صغیرة. (فتجب إهانته شرعاً فلایعظم بتقدیم الإمامة) تبع فیه الزیلعي ومفاده كون الکراهة في الفاسق تحریمیة”. (کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ،ص:٣٠٣دارالکتب العلمیۃ،بیروت )
فتاویٰ رضویہ میں ہے :
” فاسق کے پیچھے نماز ناقص و مکروہ، اگر پڑھ لی تو پھیری جائے، اگر چہ مدت گزر چکی ہو ، ولہذا اسے ہر گزامام نہ کیا جائے، جہاں امامت کرتا ہو بشرط قدرت معزول کرکے امام متقی صحیح العقیدہ صحیح القرأۃ مقرر کریں ، اگر قدرت نہ پائیں تو جمعہ کے لئے دوسری مسجد میں جائیں، یونہی پنجگانہ میں خواہ اپنی دوسری جماعت یہیں کرلیں ۔ صغیری میں : یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم (فاسق کی تقدیم (یعنی امامت) مکروہ تحریمی ہے۔ )مراقی الفلاح میں ہے: کرہ امامۃ الفاسق العالم لعدم اھتمامہ بالدین، فتجب اھانتہ شرعا ،فلایعظم بتقدیمہ للامامۃ واذا تعذر منعہ ینتقل عنہ الی غیر مسجد للجمعۃ وغیرھا ۔
فاسق عالم کی امامت مکروہ ہے، کیونکہ وہ دین کی اتباع کا اہتمام نہیں کرتا، لہذا شرعًا اس کی تذلیل واجب ہے، پس امامت کے لئے تقدیم کی صورت میں اس کی تعظیم درست نہیں، جب اس کا روکنا دشوار ہو تو ایسے حضرات کو جمعہ وغیرہ کے لئے دوسری مسجد میں چلے جانا چاہئے.
طحطاویہ میں ہے : تبع فیہ الزیلعی ومفادہ کون الکراھۃ فی الفاسق تحریمیۃ ۔
زیلعی نے اس میں اسی کا اتباع کیا اس کا مفادیہ ہے کہ فاسق کے امام ہونے میں کراہت تحریمی ہے۔
حاشیہ درمختار میں فرمایا :
فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا ومفادھذا کراھۃ التحریم فی تقدیمہ اھ ابو مسعود۔
فاسق کی تقدیم میں اس کی تعظیم ہے، حالانکہ شرعًا اس کی اہانت ان پر لازم ہے ، یہ بات اس پر دال ہے کہ فاسق کی تقدیم مکروہ ِ تحریمہ ہے اھ.(٦/ ٣٨٨)
اسی میں ہے :
”داڑھی منڈانا اور کتَروا کر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق باِلاِعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے اور فاسقِ مُعلِن کی امامت ممنوع و گناہ ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ،٦/ ٥٠٥، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

کاتب :کمال احمد علیمی نظامی
دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی
تصدیق :حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین قادری صاحب دامت برکاتھم استاذ ومفتی دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی
٢٦ ربیع الاول ١٤٤٨ ھ/ ٩ ستمبر ٢٠٢٦

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: مفتی کمال احمد علیمی نظامی