بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-286 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
غسل کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئیں، پھر استنجا کریں اور جسم پر لگی نجاست دور کریں۔ اس کے بعد نماز جیسا مکمل وضو کریں (اگر پانی جمع ہو تو پاؤں آخر میں دھوئیں)۔ پھر سر پر 3 بار پانی ڈالیں، پھر دائیں اور پھر بائیں کندھے پر پانی ڈالیں اور پورے جسم پر مل کر پانی بہائیں کہ کوئی جگہ خشک نہ رہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ