بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-285 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر ویڈیو میں کوئی خلافِ شرع بات نہ ہو، اور جو اشتہارات (Ads) ویڈیو پر چلیں وہ بھی حلال پروڈکٹس کے ہوں اور ان میں موسیقی یا بے پردہ تصاویر نہ ہوں تو کمائی حلال ہے۔ چونکہ یوٹیوب پر اشتہارات کو مکمل کنٹرول کرنا مشکل ہے، اس لیے اکثر علماء اس کمائی کو مشکوک یا ناجائز قرار دیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ