لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

پرسنٹیج پر زکاة کی وصولی کا حکم / Percentage پر چندہ کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پرسنٹیج پر زکاة کی وصولی کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان اسلام اس مسئلہ میں کہ کیا پرسینٹیز پر چندہ کرنا یا کروانا جائز ہے بالخصوص زکوة یا عشر کی وصولی میں .بینوا توجروا المستفتی محمد ابوبکر علیمی مصباحی فیضان حافظ ملت بدھیانی خلیل آباد سنت کبیر نگر یو پی 9838543823 الجواب: پرسنٹیج پر زکاة کی وصولی کا حکم یہ تو ظاہر ہے کہ موجودہ دور میں زکاة وصول کرنے والے سفراء ان "عاملین” میں شامل نہیں ہیں جو مستحقین زکاة کی ایک صنف ہیں اور جن کو بقدر کفایت مال زکاة سے لینا جائز ہے ۔ کیوں کہ یہ "عاملین” وہ ہوتے ہیں جن کو حاکم اسلام صدقات وزکاة وصول کرنے پر مامور کرے ۔ فتاوی عالم گیری میں ہے:”ومنہا العامل وہو من نصبہ الامام لاستیفاء الصدقات والعشور” (فتاوی ہندیہ ج١ ص١٨٨) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "عامل وہ ہے جسے بادشاہِ اسلام نے زکاۃ اور عشر وصول کرنے کے لیے مقرر کیا، اسے کام کے لحاظ سے اتنا دیا جائے کہ اُس کو اور اُس کے مددگاروں کا متوسط طور پر کافی ہو ۔ مگر اتنا نہ دیا جائے کہ جو وصول کر لایا ہے اس کے نصف سے زیادہ ہوجائے”۔ (بہار شریعت حصہ۵ص٩٢۴) لیکن اہل سنت وجماعت کے وہ دینی ادارے جو علوم قرآن وحدیث اور دیگر علوم دینیہ کی تعلیم کے لیے قائم کیے گیے ہیں ان کے اخراجات پورے کرنےکے لیےموجودہ دور کے مفتیان اہل سنت نے بر بنائے حاجت وتعامل پرسنٹیج (کمیشن) پر چندہ کرنے اور کرانے کی اجازت دی ہے ۔ مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ کے زیر اہتمام منعقد چودہویں فقہی سیمینار کے فیصلہ میں ہے: "اور مدارس دینیہ کو اس طرح کام لینے(مدارس کے لیے کمیشن پر چندہ کرانے) کی حاجت شرعی بھی متحقق ہے،ساتھ ہی اس پر عوام وخواص کا تعامل بھی ہوچکا ہے اس لیے وقتِ عقد یہ جہالت مفسدِ عقد نہ رہی” (مجلس شرعی کے فیصلے ص ٣٠٨ مزیدا منی مابین الہلالین) لیکن چندہ کرنے والوں کو یہ جائز نہیں ہے کہ وہ زکاة کی رقم کرایہ خرچہ میں صرف کرڈالیں یا بطور خود حق المحنت میں رکھ لیں ۔ اسی فیصلے میں ہے: "محصل پر واجب ہے کہ وصول کردہ رقم سے کچھ بھی اپنے استعمال میں نہ لائے حتی کہ اپنے کرایہ میں بھی صرف نہ کرے، نہ اسے اپنے حق المحنت میں وضع کرے کہ یہ امانت میں خیانت اور مال مسلم میں تعدی ہوگی جس کے باعث وہ حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ومستحق عذاب نار ہوگا” (مجلس شرعی کے فیصلے ص ٣٠٩) بلکہ چندہ کرنے والے بلا تاخیر وہ رقم مدارس کے ذمہ داران تک پہونچائیں پھر وہ ذمہ داران اپنے پاس سے یا چندہ کی رقم کاحیلہ شرعی کرنے کے بعد اسی سے چندہ لانے والے کی اجرت(پرسنٹیج) ادا کرسکتے ہیں ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی ۔٧/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٠/اپریل ٢٠٢١ء

Alimi Darul Ifta Jamia Alima Jmada shahi

قرض پر زکوۃ کا حکم / زکوۃ کے اہم مسائل از مفتی نظام الدین

 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات