لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

زندگی میں اپنی پراپرٹی کسی کے نام کرناکیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

زندگی میں اپنی پراپرٹی کسی کے نام کرناکیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین۔ زید جس کے دو لڑکے ہیں خالد اور عمر دونوں ایک ساتھ تجارت کرتے ہیں زید نے اپنی زندگی ہی میں اپنی پراپرٹی کا کچھ حصہ اپنے لڑکے عمر کی بیوی کے نام کردیا ۔ سوال یہ ہے کہ زید کے انتقال کے بعد وہ پراپرٹی جو عمر کی بیوی نام ہے اس میں خالد کا حصہ ہوگا یا نہیں ؟ جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع فراہم کریں ۔ المستفتی وزیر احمد قادری کرلا ایسٹ مہاراشٹر الجواب:زندگی میں اپنی پراپرٹی کسی کے نام کرناکیسا ہے ؟   صورتِ مسئولہ میں اگر زید نے اپنی پراپرٹی کا ایک حصہ اپنے ایک بیٹے عمرکی بیوی کے نام کرکے اور اس پر قبضہ دلانے کے بعد انتقال کیا ہو تو اس پراپرٹی میں اس کے دوسرے لڑکے خالد اور زید کے دوسرے وارثوں کا شرعا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز اسی طرح کے ایک مسئلہ کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: "صورت مستفسرہ میں وہ نصف جائداد کہ زید نے اپنی بہو کو دی اس کی مالک مستقل بہو ہوگئی ۔ وارثان زید کا اس میں کچھ حق نہ رہا، نہ ان کا دعوٰی مسموع ہوسکتا ہے ۔ وہ صرف حق وارثان عورت ہے ۔ فان التملیک ان کان بیعا فظاہر وان کان ہبۃ فقد تمت بالتقسیم والقبض و لزمت بالموت” (فتاوی رضویہ ج ٨ص۴٩ ، ۵٠) اور اگر زید نے اپنی اس پراپرٹی کو اپنے بیٹے عمر کی بیوی کے قبضہ میں نہ دیا ہو تو زید کا یہ ہبہ باطل ہے ۔ اور اس پراپرٹی میں اس کے دوسرے بیٹے خالد اور دوسرے وارثین کا بھی حصہ ہوگا۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: ” یا ہبہ زبانی خواہ تحریری کیا، مگر قبضہ نہ دیا تو وہ قبضہ کاملہ نہ تھا پس ان صورتوں میں وہ جائداد ملکِ پِدر پر باقی رہی تمام ورثہ حسبِ فرائض اس سے حصہ پائیں گے ۔ فان موت الواہب قبل التسلیم یبطل الہبة، کما فی الدر المختار”(فتاوی رضویہ ج ٨ص۵۴) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٢/اپریل ٢٠٢١ء

Alimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda Shahi Basti 

وہابی امام کے پیچھے نماز اور کھڑے ہوکر اقامت سننے کا حکم

 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات