بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2734 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
تفسیر «وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا
بسم الله الرحمن الرحيم
آیت کریمه: «وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا فَاَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ» [سورة الأنعام:٦، الآية:٨١] ترجمه كنز العرفان: «اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں؟ اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی کوئی دلیل اللہ نے تم پر نہیں اتاری تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ حق دار کون ہے؟ اگر تم جانتے ہو» تفسير صراط الجنان: {وكیف اخاف ما اشركتم: اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں؟} حضرت ابراہیم -علیہ الصلاۃ والسلام- نے مزید فرمایا کہ: میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں جو بےجان، جمادات اور بالکل عاجز و بےبس ہیں اور مجھے ڈرانے کے بجاے تو تمہیں ڈرنا چاہیے؛ کیوں کہ تم نے ان بتوں کو اللہ -عزوجل- کا شریک ٹھہرایا، جن کے شریک ہونے کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس بات کو سامنے رکھ کر غور کرو کہ امن کا مستحق کون ہے؟ وہ مومن جس کے پاس اپنے عقیدے کی حقانیت کے دلائل ہیں یا وہ مشرک امن کا مستحق ہے جس کے پاس اُس کے عقیدے کی کوئی معقول و قابل قبول دلیل نہیں ہے۔پیش کش : مولانا عبد القدوس مصباحی
شرک کرنے والے اللہ کو جواب نہ دے سکیں گے
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ