بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-273 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قربانی کی کھال کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے (جیسے مصلیٰ بنانا)۔ اگر اسے بیچ دیا تو اس کی رقم خود استعمال کرنا حرام ہے، وہ رقم زکوٰۃ کے مستحقین پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ عام طور پر یہ کھال مدارس یا فلاحی اداروں کو دے دی جاتی ہے تاکہ وہ مستحقین پر خرچ کریں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ