صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2716 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

دفن میت کو جانے کیلئے پاک ہونا ضروری نہیں

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 13,944

سوال (Question):

دفن میت کو جانے کیلئے پاک ہونا ضروری نہیں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دفن میت کو جانے کیلئے پاک ہونا ضروری نہیں

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص پر ناپاک چھیٹ پڑ گئی ہے تو کیا وہ قبرستان میت کو دفنانے جا سکتا ہے اور اگر اس کے اوپر غسل فرض ہو تو اب کیا وہ بنا غسل کئے میت کے ساتھ قبرستان تک دفنانے کو جا سکتا ہے۔

المستفتی:سیفی اشہر نوری کانپور اتر پردیش

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

جا سکتا ہے کہ جس شخص پر غسل واجب ہے اس کے لئے مسجد میں جانا، طواف کرنا، قرآن مجید چھونا اور پڑھنا، کسی آیت کا لکھنا، آیت کا تعویذ لکھنا اور چھونا اور آیات والی انگوٹھی چھونا پہننا حرام ہے ان کے علاوہ اعمال صالحہ حرام نہیں اور نہ ہی ان کیلئے طہارت شرط ہے اور دفن کرنے کو جانا بھی مذکورہ اعمال کے سوا ہے اسلئے اس کے لئے بھی طہارت شرط نہ ہوگی البتہ بہتر نہیں۔

در مختار میں ہے “ﻭﻳﺤﺮﻡ ﺑﺎﻟﺤﺪﺙ اﻷﻛﺒﺮ ﺩﺧﻮﻝ ﻣﺴﺠﺪ ﻭﻟﻮ ﻟﻠﻌﺒﻮﺭ ﺇﻻ ﻟﻀﺮﻭﺭﺓ ﺣﻴﺚ ﻻ ﺗﻴﻤﻢ ﻧﺪﺑﺎ، ﻭﺇﻥ ﻣﻜﺚ ﻟﺨﻮﻑ ﻓﻮﺟﻮﺑﺎ، ﻭﻻ ﻳﺼﻠﻲ ﻭﻻ ﻳﻘﺮﺃ و ﻳﺤﺮﻡ ﺑﻪ ﺗﻼﻭﺓ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻭﻟﻮ ﺩﻭﻥ ﺁﻳﺔ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﺑﻘﺼﺪﻩ ﻭﻣﺴﻪ۔و ﻳﺤﺮﻡ ﺑﻪ ﻃﻮاﻑ ﻟﻮﺟﻮﺏ اﻟﻄﻬﺎﺭﺓ ﻓﻴﻪ ﻭ ﻳﺤﺮﻡ ﺑﻪ ﺃﻱ ﺑﺎﻷﻛﺒﺮ ﻭﺑﺎﻷﺻﻐﺮ ﻣﺲ ﻣﺼﺤﻒ ﺃﻱ ﻣﺎ ﻓﻴﻪ ﺁﻳﺔ ﻛﺪﺭﻫﻢ ﻭﺟﺪاﺭ” ملتقطا(ردالمحتار،ج١، ص٣٤٣ تا ٣٤٨)

بہار شریعت میں ہے “جس کو نہانے کی ضرورت ہو اس کو مسجد میں جانا، طواف کرنا، قرآن مجید چھونا اگرچہ اس کا سادہ حاشیہ یا جلد یا چَولی چُھوئے یا بے چُھوئے دیکھ کر یا زبانی پڑھنا یا کسی آیت کا لکھنا یا آیت کا تعویذ لکھنا یا ایسا تعویذ چھونا یا ایسی انگوٹھی چھونا یا پہننا جیسے مُقَطَّعات کی انگوٹھی حرام ہے”(ح٢، ص٣٢٦)۔

واللہ تعالی اعلم

مفتی شان محمد المصباحی القادری

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

١٦ستمبر٢٠١٨

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat