لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

دیوبندی وہابی غیر مقلد کی اذان کے کلمہ أشهد أن محمدا پر انگوٹھا چومنا اور صلی اللہ علیہ وسلم کہنا کیسا ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دیوبندی وہابی غیر مقلد کی اذان کے کلمہ أشهد أن محمدا پر انگوٹھا چومنا اور صلی اللہ علیہ وسلم کہنا کیسا ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

دیوبندی وہابی غیر مقلد کی اذان کے کلمہ أشهد أن محمدا پر انگوٹھا چومنا اور صلی اللہ علیہ وسلم کہنا کیسا ہے؟

سائل:عبد المجیب

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

دیوبندی وھابی غیر مقلد کی اذان میں نام رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سن کر صلی اللہ علیہ وسلم پڑھیں گے۔

فتاوی رضویہ میں ہے "اسم جلالت پر کلمہ تعظیم اور نامِ رسالت پر درود شریف پڑھیں گے اگرچہ یہ اسمائے طیبہ کسی کی زبان سے اداہوں مگر وہابی کی اذان اذان میں شمار نہیں جواب کی حاجت نہیں”(ج٥،ص٤٢٢) واللہ تعالی اعلم۔

اسی طرح اذان میں نام رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سن کر انگوٹھے چومنا بھی جائز اسلئے کہ درود شریف پڑھنا اذان سے جدا عمل ہے اور اس میں اس اذان دینے والے کا کچھ دخل نہیں یعنی ایسا نہیں کہ اس کی اذان سے نام رسالت سن کر درود پڑھنے میں ثواب و فضائل میں کمی یا زیادتی ہوگی بلکہ درود پڑھنے والا بہرحال درود کے فضائل فوائد کو پاے گا اسی طرح انگوٹھے چومنا بھی اذان سے جدا عمل ہے اور اس میں بھی اس کا کچھ دخل نہیں اسلئے یہ بھی انگوٹھے چومنے کے فضائل و فوائد کو پانے والا ہوگا اسی سبب اذان کے جواب کی حاجت نہیں کیونکہ جب اس کی اذان اذان ہی میں شمار نہیں تو اذان کے جواب کا ثواب بھی حاصل نہ ہوگا۔

ھذا ما ظھر لی والعلم بالحق عند ربی

مفتی شان محمد المصباحی القادری

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

٢٠ ستمبر ٢٠١٩

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات