لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے لیے لفظِ حضرت لکھنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کے لیے لفظِ حضرت لکھنا کیسا ہے ؟ بسمہ تعالیٰ

الجواب بعون الملک الوھّاب اللھم ھدایۃ الحق و الصواب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کی موت چونکہ کفر پر ہوئی اس لیے ابو طالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں ہے ۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ صحیحہ متوافرہ متظافرہ سے ابوطالب کا کفر پر مرنا اور دم واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کار اصحابِ نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت، جس سے کسی سنی کو مجالِ دم زدن نہیں۔” (فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 661 رضا فاؤنڈیشن لاہور) فقیہِ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "ابوطالب کو حضرت ابو طالب کہنے کی اجازت نہیں، اس لیے کہ ان کی موت کفر پر ہوئی۔” (فتاوٰی فیض الرسول جلد 3 صفحہ 358 شبیر برادرز لاہور) شارحِ بخاری فقیہِ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "ابوطالب کے ایمان اور عدمِ ایمان میں اختلاف ہے۔ بعض روایاتِ ضعیفہ کی بنا پر کچھ لوگ ابوطالب کو مسلمان کہتے ہیں، اگرچہ صحیح یہی ہے کہ ابو طالب ایمان سے محروم رہے۔ اس لیے جو ابو طالب کو مسلمان کہتا ہے، وہ خاطی ہے۔” (فتاوٰی شارح بخاری جلد دوم صفحہ 50 مکتبہ برکات المدینہ کراچی) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات