لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

دس درھم سے کم مہر ادا ہوگی یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دس درھم سے کم مہر ادا ہوگی یا نہیں؟

سوال : دس درھم سے کم مہر ادا ہوگی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مہر کی کم از کم مقدار دس درہم (دوتولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی) ہے، تو اگر کسی نے دس درہم سے کم مہر مقرر کیا تو نکاح ہوجائے گا لیکن مہر دس درہم ہی لازم ہوگا۔ (درمختار و ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر جلد 4 صفحہ 222) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات