صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2596 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

قبر کو چومنا جائز ہے یا نہیں؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 10,267

سوال (Question):

قبر کو چومنا جائز ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قبر کو چومنا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ قبر کو چومنا اگرچہ جائز ہے مگر ادب اسی میں ہے کہ نہ چوما جائے اور مزار سے دو گز کے فاصلے پر کھڑے ہو کر فاتحہ و ایصالِ ثواب کیا جائے اور جن صحابہ کرام (جیسے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ) سے مزار اَقْدَسْ پر چہرہ ملنا ثابت ہے تو ان کا یہ عمل محبت کے غلبہ کے سبب سے تھا اور غلبہ محبت کے سبب قبر و مزار کا بوسہ لینا اور چہرہ ملنا بلاکراہت جائز ہے ۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “فی الواقع بوسہ قبر میں علماء مختلف ہیں اور تحقیق یہ ہے کہ وہ (بوسہ) ایک امر ہے جو دو چیزوں داعی (بوسہ کی طرف دعوت دینے والے امر) و مانع (بوسہ سے روکنے والے امر) کے درمیان دائر (منحصر ہے)، داعی محبت ہے اور مانع ادب تو جسے غلبہ محبت ہو اس پر مواخذہ (پکڑ) نہیں کہ اکابِر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت ہے اور عوام کیلئے منع اَحْوَطْ (یعنی زیادہ احتیاط والی بات) ہے، علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزارِ اکابر سے کم از کم چار ہاتھ (یعنی دو گز) کے فاصلے سے کھڑا ہو پھر تقبیل کی کیا سبیل (یعنی بوسہ لینے کی کیا راہ) ۔ ” (فتاوی رضویہ جلد 1 صفحہ 528 رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat