لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا پتھر کے نگینوں میں تاثیر ہوتی ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا پتھر کے نگینوں میں تاثیر ہوتی ہے ؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نگینہ پہننے سے تقدیر نہیں بدل جاتی البتہ دوا کی طرح بعض نگینوں میں تاثیرات ہوتی ہیں ۔ چنانچہ فیض القدیر میں ہے : "فی حدیث لہ شأن من تختم بالعقیق وفق لکل خیر واحبہ الملکان و من خواصہ تسکین الروع عن الخصام و یقطع نزف الدم” یعنی عقیق کے نگینے کے متعلق حدیث پاک میں ہے یہ پہننے والے کو ہر قسم کی بھلائی ملے گی اور فرشتے اس سے محبت کریں گے اور اس کے خواص سے ہے کہ دل مَدِّ مقابل کے وقت سکون میں رہتا ہے اور نکسیر پھوٹنا ختم ہو جاتا ہے. (فیض القدیر حرف التاء جلد 3 صفحہ 235 مرتبہ التجاریہ الکبری مصر) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں : عقیق کا نگینہ بہت مبارک ہے، حدیث شریف میں ہے : "تختم بالعقیق فانہ مبارک” یعنی چاندی کی انگوٹھی عقیق سیاہ کا نگینہ بہت اعلی ہے، بعض روایات میں ہے کہ پیلے یاقوت کی انگوٹھی طاعون سے محفوظ رکھتی ہے، بعض روایات میں ہے کہ عقیق کی انگوٹھی فقیری دور کرتی ہے. (مراٰۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6 صفحہ 131 نعیمی کتب خانہ گجرات) فائدہ : مرد کے لئے چاندی کی ساڑھے چار ماشے سے کم ایک نَگْ والی، ایک انگوٹھی پہننا جائز ہے، اس کے علاوہ سونے، پیتل اور تانبے وغیرہ کی انگوٹھی یا چاندی کی 2 انگوٹھیاں یا زیادہ انگوٹھیاں یا ایک چاندی کی انگوٹھی دو نگوں والی یا ایک خالی چھلا چاہے چاندی کا ہو یا کسی اور دھات کا مرد کے لئے پہننا ناجائز و حرام ہے ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات