لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ شریعت میں مرد کے لئے چاندی کی ساڑھے چار ماشے سے کم والی انگوٹھی پہننے کی اجازت ہے مگر چھلا پہننے کی اجازت نہیں ہے, جس حلقہ (رِنگ) میں نگ نہ ہو اس کو چھلا کہاجاتا ہے اور چھلا پہننا مرد کے لئے جائز نہیں ہے خواہ چاندی کا ہو یا کسی اور دھات کا ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ سے جب چھلے کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : "حرام ہے ” ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 147 رضا فاؤنڈیشن لاہور) صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں کئی نگینے ہوں تو اگرچہ وہ چاندی ہی کی ہو مرد کے لئے ناجائز ہے, اسی طرح مردوں کے لیے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں , عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں” ۔ (بہارشریعت جلد3 حصہ 16 صفحہ 427,428 مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات