لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

عصراور مغرب کے دوران روزہ رکھنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عصراور مغرب کے دوران روزہ رکھنا (یعنی عصر سے مغرب تک نہ کھانا نہ پینا) کیسا ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پاکستان و ہندوستان میں اسے عصر اور مغرب کے درمیان والا روزہ کہاجاتا ہے جبکہ بعض جگہوں پر اس کو عصر کا روزہ بھی کہتے ہیں ۔ حدیث و فقہ میں اس کی اصل نہیں ہے اور نہ ہی یہ روزہ ہے البتہ بعض بزرگوں کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ عصر اور مغرب کے درمیان کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے ۔ تو جو بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عصر تا مغرب کھانے پینے سے باز رہے گا اتنا ہی نفسانی شہوات و لذات سے بچا رہے گا اور جتنا نفسانی خواہشات سے بچے گا اتنا ہی اس کے لیے باعث اجروثواب ہوگا ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ سے جب اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : "حدیث فقہ میں اس کی اصل نہیں معمولاتِ بعض مشائخ سے ہے اور اس پر عمل میں حرج نہیں انسان جتنی دیر شہوات نفسی سے بچے بہتر ہے ۔ ” (فتاوی رضویہ جلد23 صفحہ 106 رضا فاؤنڈیشن لاہور ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات