بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2587 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا مور کھانا حلال ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں! مور کھانا حلال ہے. چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے : "ولابأس باکل الطاؤوس وعن الشعبی یکرہ اشد الکراھۃ وبالاول یفتی کذا فی الفتاویٰ الحامدیہ ” یعنی مور کھانے میں حرج نہیں ہے اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ مور کھانے کو بہت سخت مکروہ قرار دیتے تھے اور پہلے قول پر (مور کے حلال ہونےپر) فتویٰ دیا جاتا ہے ایسے ہی فتاوی حامدیہ میں ہے. (فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 358 قدیمی کتب خانہ کراچی ) اسی طرح میزان الشعرانی اور فتاوی برہنہ میں بھی مور کھانے کو حلال لکھا گیا ہے. واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ