لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیاکوئی ایسی صورت بھی ہے جس میں غیراللہ کو مددگار ماننا کفروشرک ہو ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیاکوئی ایسی صورت بھی ہے جس میں غیراللہ کو مددگار ماننا کفروشرک ہو ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں: ایسی تین صورتیں ہیں جن میں غیراللہ کومددگار ماننا کفر و شرک ہے جو کہ درج ذیل ہیں: (1)-اللہ کوکمزوروعاجزسمجھ کرکسی اورمددگاربنانا کہ اللہ مددنہیں کرسکتااورفلاں مددکرسکتاہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نےارشادفرمایا: "وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیُّ مِنَ الذُّلِّ " یعنی اورنہیں ہےاللہ کاکوئی ولی (مددگار)کمزوری کی بناءپر. (سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر111) (2)-خداکےمقابل کسی کومددگار جاننا یعنی اللہ عذاب وتکلیف دیناچاہتاہے اورولی اللہ کےمقابل آکراسکوبچالےگا جیساکہ اللہ عزوجل کاارشادِپاک ہے: "آوْلٰئِکَ لَمْ یَکُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَمَاکَانَ لَھُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ " یعنی یہ کفارخداکوعاجزنہیں کرسکتےزمین میں اورنہ کوئی خداکےمقابل ان کاولی (مددگار)ہے. (3)-غیراللہ کومددگارسمجھ کر اسکی عبادت کرنا چنانچہ اللہ تعالی نےفرمایا: "وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہ اَوْلِیَآءَ مَانَعْبُدُھُمْ اِلاّ لِیُقَرِّبُوْنَا اِلیَ اللّٰہِ زُلْفیٰ " یعنی اورجنہوں نے رب کےسوا اور ولی (مددگار)بنائے, کہتےہیں ہم توانہیں نہیں پوجتے مگراس لیےکہ ہمیں وہ اللہ کےقریب کردیں ۔ توجوغیراللہ کوان تین صورتوں کی طرح مددگار مانے تووہ کافرومشرک اورمرتد ہے اور بدمذھب ان تینوں صورتوں کے متعلق وارد شدہ آیات پیش کرکے عوام الناس کودھوکہ وفریب دیتےہوئےمطلقاً غیراللہ سےمددکوکفروشرک قراردیتے ہیں حالانکہ خوداہلسنت وجماعت کےنزدیک بھی یہ تینوں صورتیں کفروشرک ہے اورانکےنزدیک جس صورت میں غیراللہ کومددگار ماننا جائز ہے اس کی ممانعت پر قرآن وحدیث سے کوئی دلیل نہیں بلکہ قرآن وحدیث اورصحابہ کرام وآئمہ ومحدثین سے اس کا جواز ثابت ہے اوروہ جوازی صورت یہ ہےکہ انبیاءاولیاء اللہ کی عطاء اور اس کی اجازت سے مدد کرتےہیں اوران کی مدد درحقیقت اللہ کی مددہے ۔ سیدی اعلحضرت علیہ الرحمہ نےایک شعر میں کیاخوب فرمایا: حکیم دادو دوا دیں یہ کچھ نہ دیں مردود یہ مراد کس آیت خبرکی ہے واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات