لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کسی کو پیر بنانےکیلئے کتنی شرطیں لازم ہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کسی کو پیر بنانےکیلئے کتنی شرطیں لازم ہیں؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــ کسی کو بھی پیر بنانے سے پہلے اس میں چار شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے, ان میں سے ایک بھی شرط نہ پائی گئی تو ایسے شخص کا مرید ہونا ہرگز جائز نہیں۔ وہ چارشرطیں یہ ہیں : 1-عقیدہ صحیح ہو (یعنی سنی ہو) 2-علم صحیح ہو (یعنی عالم ہو) 3-عمل صحیح ہو (یعنی فاسق نہ ہو) 4-نسبت صحیح ہو (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ ملاہواہو) ۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے : بیعت لینےاور مسندارشاد پربیٹھنے کے لیے چار شرطیں ضروری ہیں : ایک: یہ کہ سنّی صحیح العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذھب دوزخ کے لئے کتے ہیں اور بدترین مخلوق, جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ۔ دوسری: شرط ضروری علم کا ہونا, اس لیے کہ بےعلم خدا کو پہچان نہیں سکتا ۔ تیسری: یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا اس لئے کہ فاسق کی توہین واجب ہے اور مرشد واجب التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکٹھی ہوں گی ۔ چوتھی : اجازت صحیح متصل ہو, جیسا کہ اس پر اہل باطن کا اجماع ہے ۔ جس شخص میں ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط نہ ہو تو اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہیے ۔ (فتاوی رضویۃ جلد 21 صفحہ 492 رضافاؤنڈیشن لاہور ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات