لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مرد و عورت کے لیے جھولا جھولنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مردوعورت کے لیے جھولا جھولنا کیسا ہے ؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر جھولا راستے پر نہ ہو بلکہ گھر میں ہو تو مردوں کے لیے کوئی حرج نہیں اور اگر وہاں کوئی نامحرم (اجنبی مرد) نہ ہو تو عورتوں کے لیے بھی جائز ہے بلکہ بعض امراض میں جھولا جھولنا مفید ہوتا ہے ۔ چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : "مجھے اپنے نکاح کی کوئی خبر نہ تھی, میں اپنے مکان میں جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں مجھ کو اٹھا کر لے گئیں ". (سنن ابو داؤد کتاب الایمان حدیث نمبر 4937جلد 4 صفحہ 370 مُلَخَّصاًداراحیاء التراث العربی ) اسی طرح سیدی اعلحضرت امام احمدرضا خان رضی اللہُ عنہ سے سوال ہوا کہ تفریحا جھولا جھولنا کیسا ہے ؟ تو آپ نے یوں جواب ارشاد فرمایا کہ : "شارعِ عام پر نہ ہو, مکان میں ہو کچھ حرج نہیں, یہ تو بدن کی ریاضت ہے , بعض امراض میں اَطِبَّا (یعنی ڈاکٹر ) مفید بتاتے ہیں "۔ (ملفوظات اعلحضرت حصہ چہارم صفحہ 459 مکتبۃ المدینہ کراچی ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ : ابو اسید عبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات